سابقہ پروموشن پالیسی کے نقائص۔
سابقہ پروموشن پالیسی اپنے اپ میں کسی عجوبہ سے کم نہیں ہے جسکی وجہ سے بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔
چند درج ذیل نقائص کا ذکر کر رہا ہوں۔
1: پروموشن پالیسی پر عملدرآمد بہت دیر سے ہو رہا ابھی بھی بہت سے اضلاع پروموشن کیسز میں بہت پیچھے ہیں اور کچھ اضلاع تیزی سے اس پراسیس کو کر رہے ہیں۔
2: پروموشن پالیسی میں منتخب سبجیکٹ اور منتخب ڈگریوں کے علاوہ سب کو نظر انداز کیا گیا جسکی وجہ سے محکمہ میں وہ لوگ بھی موجود ہیں جنکی سروس 35 سال ہوچکی ہے لیکن وہ پروموٹ نہیں ہوسکے نہ کبھی ہو سکیں گے۔۔
3: بی ایس سی کی بنیاد پر پروموشن کی گئی ہیں جبکہ بی ایس چار سالہ ڈگری والوں، ایم فل اور پی ایچ ڈی والوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
4: اگر کسی کا ایم فل ہے لیکن اسکی کوئی ڈگری میں 3رڈ ڈیویژن ہے وہ بھی پروموشن سے ہمیشہ محروم ہے اور محروم رہے گا۔
5: کوئی ٹرانسفر کروا کے دوسرے ضلع میں گیا تو اسکی پچھلی سروس کو پروموشن میں شامل نہیں کیا جاتا اس لیئے وہ بھی پروموشن کو بھول جاتا ہے۔
6: آرٹس کی پروموشن میں زیادہ ڈگریوں کو اکٹھا کر کے پروموشن جنرل سبجیکٹ میں کی جاتی ہے جس میں سیٹ کم ہوتی ہیں اور امیدوار زیادہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آرٹس میں پروموشن کا پراسیس بہت سست روی کا شکار ہے اور ہر ضلع میں اسکی رفتار اور ٹائم لائن مختلف ہے کچھ اضلاع میں بیسویں صدی کے اساتذہ پروموشن کے لیئے انتظار میں بیٹھے ہیں۔
7: سائنس کی پروموشن پالیسی میں بھی ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ کو نظر انداز کر کے بی ایس سی دو سالہ کی بنیاد پر پروموشنز کی جا رہی ہیں جس میں بی ایس چار سالہ ڈگری والوں کو بھی نظر انداذ کیا جا رہا ہے۔
8: عربی والوں کی قسمت کہ وہ اساتذہ جو 2017 میں اپوائنٹ ہوئے وہ بھی پروموٹ ہوگئے جبکہ جو بیسویں صدی والے بیٹھے وہ پروموشن کی امید ہی چھوڑ چکےہیں۔
9: کمپیوٹر سائنس والوں کی پروموشنز کی ہی نہیں ہیں بہت سے سکولوں میں کمپیوٹر لیب تو ہیں لیکن اساتذہ نہیں ہیں جبکہ پرائمری سکولوں میں ایم فل کمپیوٹر سائنس اساتذہ الف بے پڑھا رہے ہیں۔
10: ڈی وی ایم، ایگریکلچرل اور ایل ایل بی ڈگری کے حامل اساتذہ جو 2017 میں بھرتی تو کیئے گئے لیکن انکی پروموشنز کا کوئی سین ہی نہیں ہے۔
11: پرائمری میں جہاں اساتذہ کی شدید کمی ہے وہیں ایلیمنٹری اور ہائی سکول میں سبجیکٹ کے ماہر اساتذہ کی بھی کمی ہے جو ناقص پروموشن۔پالیسی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔
12: 35 سال سروس کے بعد بھی کسی قسم کی پروموشن نہیں ہوسکی اور نا ہی کوئی امید ہے یہ اس پالیسی کا سب سے بڑا فالٹ ہے۔
13: پرائمری کے ایک سکول میں دو دو فیزیکل ایجوکیشن کے اساتذہ موجود ہیں جبکہ ایلیمنٹری اور ہائی سکول میں گراؤنڈ بھی ہیں لیکن استاد نہیں ہیں۔
14: میرے ضلع میں آرٹس کی پروموشن ابھی بیسویں صدی والوں کی ہو رہی ہے میری اپوائنٹمنٹ 2017 کی ہے اور میں ایم فل ہوں اس حساب سے میں تو پروموشن کو بھول ہی جاؤں۔
یہ وہ چند نقائص تھے پروموشن پالیسی کے جس میں کسی کو تو بہت فائدہ ہو اور کوئی پروموشن کو ویسے ہی بھول گیا ہے۔ اس ناقص پالیسی کی وجہ سے سکولوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ بجائے اپنے سبجیکٹ میں خدمات دینے کے الف بے پڑھا رہے ہیں اسکے علاوہ کمپیوٹر لیب خالی پڑی ہیں اور کمپیوٹر سائنس ڈگری کے حامل اساتذہ بھی الف بے ہی پڑھا رہے ہیں اسی طرح ایلیمنٹری اور ہائی سکول میں فزیکل ایجوکیشن کے اساتذہ نہیں ہیں جبکہ پرائمری میں فزیکل ایجوکیشن کی ڈگری کے حامل اساتذہ الف بے پڑھا رہے ہیں۔
وقت کی ضرورت کو دیکھتے ہوۓ اس پالیسی کی تبدیلی بہت ضروری ہے۔
نیو پروموشن پالیسی کے لیۓ تجاویز۔
1: پی ایس ٹی کی پوسٹ کو ختم کر کے ای ایس ٹی میں ضم کر دیا جائے۔
(اس سے وہ اساتذہ جنکی نہ کبھی پروموشن ہوئی اور نہ کبھی ہوگی انکو بھی برابر رلیف ملے گا اور پچھلی ناقص پالیسی کی بھینٹ چڑھنے والوں کو بھی موقع ملے گا اور چھوٹے طبقے کو موجودہ مہنگائی میں رلیف ملے گا)۔
2: ای ایس ٹی سے ایس ایس ٹی میں پروموشن کے لیئے ہر سبجیکٹ کی پروموشنز الگ سے کی جائیں اور پروموشنز کو موجود خالی سیٹس کے مطابق پورا کیا جائے۔
3: ہر ضلع میں ایک ہی ٹائم لائن دی جائے اور ایک ہی پالیسی تمام اضلاع پر لاگو کی جائے جس طرح ٹرانسفر آنلائن اور تمام اضلاع میں ایک ہی وقت میں ہوتے ہیں اسی طرح پروموشن بھی ایک ہی وقت میں آنلائن کی جائیں۔
4: انگلش کے ریلیٹڈ تمام ڈگریوں کو انگلش سبجیکٹ میں پروموشن کے لیئے شامل کیا جائے( لٹریچر اور لینگوئج وغیرہ)اور انگلش کو ارٹس کے ساتھ پروموشن کی بجائے انگش سبجیکٹ کی الگ پوسٹ پر پروموشنز دی جائیں۔
5: اردو میں بھی آرٹس کی بجائے صرف اردو کی پوسٹ پر ہی اردو والوں کی پروموشنز کی جائیں۔
6: کمپیوٹر سائنس والوں کی پروموشنز کمپیوٹر کی سیٹ ہر کی جائیں انکو آرٹس سے الگ کیا جائے۔
7: فزیکل ایجوکیشن ڈگری والوں کو آرٹس سے نکال کر پی ٹی ای کی سیٹ پر پروموٹ کیا جائے۔
8: فائن آرٹ والوں کو بھی آرٹس سے نکال کر ڈرائنگ کی سیٹ پر پروموٹ کیا جائے۔
9: بیالوجی کی سیٹ کے لیئے باٹنی، زوالوجی، انوائیرمینٹل سائنس، ڈی وی ایم اور اسکے علاوہ وہ ڈگری جو بیالوجی کے ریلیٹڈ ہیں ان کو بھی بیالوجی کی سیٹ پر پرموشن کے لیے اہل قرار دیا جائے۔
10: کیمیسٹری کے سبجیکٹ میں الگ سے پروموشنز ہوں اور اس میں کیمیسٹری کے ریلیٹڈ تمام ڈگریوں کو شامل کیا جائے۔
11۔ فزکس کی سیٹ پر پروموشنز کے لیئے فزکس اور اسکے ریلیٹڈ تمام ڈگریوں کو شامل کیا جائے۔
12: ریاضی کی سیٹ پر ریاضی اور اسکے ریلیٹڈ تمام ڈگریوں کو شامل کیا جائے۔
13: عربی اور تعلیم القرآن کے لیئے عربی اور اسکے ریلیٹڈ تمام ڈگریوں کے حامل اساتذہ کو عربی کی سیٹ پر پروموٹ کیا جائے اور انکو آرٹس پروموشنز سے نکال دیا جائے۔
14: اسلامیات کی سیٹ پر اسلامیات اور اسکے ریلیٹڈ ڈگریوں کو آرٹس سے نکال کر شامل کیا جائے اور انکی پروموشنز اسلامیات کی سیٹ پر ہی کی جائے۔
15: پاکستان سٹڈیز کی سیٹ پر پاک سٹڈی، ہسٹری،جغرافیہ اور پولیٹیکل سائینس والوں کو پروموٹ کیا جائے انکو آرٹس کی پروموشنز سے نکال دیا جائے
16: جنرل سائنس کی سیٹ۔
وہ تمام ڈگریاں جو بیالوجی کمسٹری فزکس اور ریاضی میں شمار نہیں ہوتیں ان کی پرموشن جنرل سائنس کی سیٹ پر کی جائے۔
17: آرٹس کی سیٹ۔
وہ تمام ڈگریاں جو اسلامیات، پاک سٹڈیز، انگلش، اردو، فزیکل ایجوکیشن، کمپیوٹر، ڈرائنگ، عربی کی پروموشنز میں اہل نہیں انکو آرٹس میں پروموٹ کیا جائے۔
18: میٹرک میں جتنے مضامین ہیں ہر مضمون پر الگ پروموشنز کی جائیں۔
19: ٹائم سکیل دیا جائے۔
20: ایس ایس ٹی کو یا تو ٹائم سکیل دیا جائے یاپھر ایس ایس میں پروموشنز کر کے انٹرمیڈیٹ لیول کی خالی سیٹوں کو فوری مکمل کیا جائے۔
21: ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ سے بڑی کلاسز میں خدمات لی جائیں اور انکو ترجیحی بنیادوں پر پروموٹ کیا جائے۔
پروموشن پالیسی کی نئی تجاویز کے فوائد۔
1: پی ایس ٹی کو ای ایس ٹی میں ضم کرنے سے اساتذہ کی پرائمری لیول میں شدید کمی دور ہوگی۔
2: ایلیمنٹری لیول تک ہر سبجیکٹ کے ماہر اساتذہ کی کمی دور ہوگی۔
3: پروموشنز کے بعد ای ایس ٹی سرپلس اور پی ایس ٹی کی شدید کمی ہوئی ہے جو کہ برابر ہوجائے گی۔
4: تمام لوگوں کو پروموشن کے برابر مواقع ملیں گے اور پچھلی محرومیوں کا ازالہ ہوگا۔
5: ایم فل اور پی ایچ ڈی اساتذہ سے بڑی کلاسز مستفید ہوسکیں گی۔
6: پروموشنز کا پروسیس تیز ہوگا۔
7: ٹائم سکیل سے اساتذہ کی مالی معاونت اور حوصلہ افزائی ہوگی۔
8: ان سینیئر اساتذہ کے ساتھ انٹرنی یا این ایس بی اساتذہ رکھ کے سکول کو چھوٹی کلاسز سے بڑی کلاسز تک بہتر انداز میں چلایا جا سکتا ہے۔
گراؤنڈ ریئیلیٹیز کو دیکھ کر یہ تجاویز دی جا رہی ہیں امید کرتا ہوں یہ تجاویز اساتذہ اور پالیسی میکرز کے لیئے قابل قبول ہونگیں۔
دعاوں کا طالب
بلال احمد
0337-6320945
(پی ایس ٹی جھنگ)
